القلم ریسرچ لائبریری پروجیکٹ میں ہمارا ساتھ دیں ! القلم ریسرچ لائبریری کے رضاکار بنیں !!

Thursday, August 27, 2009

کھلا خط بنام مرزا مسرور احمد - حصہ سوئم

اب میرے دل میں سوال یہ پیدا ہوتے ہیں:۔

1) مرزا صاحب نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف میں جو کہ خدا تعالےٰ نے اپنی حفاظت، اور اہتمام میں نہایت تحقیق اور دقیق، کے ساتھ مولف کو ملہم ، مجدد اور مامور کے درجہ پر فائز کر کے لکھوائی اس میں الہاماً ایسا متفقہ عقیدہ بابت حیات عیسیٰ علیہ اسلام لکھوایا جو کہ 13صدیوںسے امت کا ، اولیاء کا ، صلحاء کا عقیدہ تھا۔کیاوہ عقیدہ صحیح نہیں تھا؟

2) یااس تحریر کے بارہ برس کے بعد مرزا صاحب نے ایک سو اسی ڈگری کا پھیر کھا کر بغیر کسی ثبوت کے ( نام نہادثبوت بعد میں ڈھونڈے گئے) مسلم امہ کے متفقہ عقیدہ کی نفی کرتے ہوئے، وفات عیسیٰ علیہ سلام کا جو عقیدہ بیان کیا وہ صحیح ہے؟ کیا پہلا عقیدہ براہین احمدیہ والا اب اتمام حجت نہیں رہا؟

3) دونوں الہاموں میں سے کونسا الہام صحیح ہے؟ وہ الہام جو کہ رسول کریم اور صحابہ ، اولیاء، صلحاء، اور امت کے عقیدہ کے مطابق تھا یا وہ الہام جو کہ بالکل مخالف سمت میں تھا؟

4) مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ شریف آدمی کے کلام میں تناقض نہیں ہوتا، تو کیا خدا تعالےٰ (نعوذ باللہ) شریف آدمی سے بھی گیا گزرا ہے جس کے الہامات میں اتنا زیادہ تناقض ہے کہ 1880 میں تو عیسیٰ علیہ سلام کی زندگی کا الہام کرتا ہے اور 1891 میں ان کی وفات کا الہام کرتا ہے؟

5) وہ کتاب جس کا متولی اور مہتمم خود خدا تعالےٰ ہو اس میں محض گپ لکھوائی تھی خدا تعالےٰ نے اپنے مجدد سے ؟

6) وہ کتاب جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے مامور سے الہام کر کے، نہایت تحقیق، عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ سے تہہ کو کھلوا کر لکھوائی اسمیں شرک عظیم ہی لکھوانا تھا، جیسا کہ مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ حیات عیسیٰ کا عقیدہ شرک عظیم ہے؟

7) اگر یہ عقیدہ گپ ہے تو کیا مرزا صاحب نے بطور مجدد لوگوں کو، اسلام کی حقانیت اور معارف قرآن کے نام پر گپ پڑھنے کو دی؟

8) اگر یہ عقیدہ شرک عظیم ہے تو کیا مرزا صاحب بطور مامور من اللہ لوگوں کومضبوط اور مستحکم دلائل کی آڑ میں شرک کی تعلیم بیچتے رہے؟

9) کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، اولیاء، تیرہ صدیوں کے مجددین، صلحاء اور تیرہ صدیوں کی امت ،سب کے سب گپ پر یقین کرتے ہوئے شرک میں (نعوذباللہ) مبتلا تھے؟

10) یا اپنی کتاب کی فروخت بڑھانے کے لئے سب ڈرامہ تھا ؟یا خدا ،رسول،قرآن کے نام پرلاشعوری دکانداری تھی؟

11) یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مجدد بارہ سال تک شرک لکھ کر اسکی اصلاح بھی نہیں کرتا ، حالانکہ مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالےٰ مجھے ایک لمحہ بھی غلطی پر قائم نہیں رہنے دیتا، یا انکا لمحہ بارہ برس پر محیط ہوتا تھا؟ یا خدا تعالےٰ ( نعوذ باللہ) بھول گیا تھا مرزا صاحب کی غلطی درست کرنا؟

12) کیا ایسا تو نہیں کہ مرزا صاحب کا پہلے عقیدہ اور جو کچھ انہوں نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے ،بالکل صحیح ہو اور جب 1888میں بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہسٹیریا کے دورے پڑنے شروع ہوئے( بحوالہ رویت نمبر19، سیرۃ المہدی جلد۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب) ، انکی وجہ سے موقع پا کر الہامات میں شیطان داخل ہو گیا ہو جیسا کہ سورۃ الحج میں لکھا ہے کہ بعض دفعہ شیطان وحی میں مداخلت کر دیتا ہے، اور مرزا صاحب بھٹک گئے ہوں اور بوجہ اپنی مختلف بیماریوں، بالخصوص مراق اور مالیخولیا وغیرہ کی وجہ سے شیطانی اور رحمانی الہامات میں فرق نہ کر سکے ہوں؟

اور آپ دیکھ لیں کہ مرزا صاحب نے اسکے بعد اپنے دعووں میں ترقی کرنی شروع کر دی اور جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب’’ تحفہ گولڑویہ‘‘ ، صفحہ 232 پر لکھا ہے ،" دجال کا حدیثوں میں ذکر پایا جاتا ہے وہ پہلے نبوت کا دعویٰ کریگا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائیگا"، کے مطابق ،حتیٰ کہ خدائی کے دعویٰ ( حوالہ کیلئے کتاب البریہ، صفحہ 103 تا 105، رخ جلد 13) تک پہنچے۔ اور پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔

مرزا صاحب کو خدا تعالےٰ سمجھانے کے لئے اس کے بعد بھی کبھی کبھار صحیح الہام سے نوازتا رہا ، کم از کم یہ الہام تو بالکل ان کے حسب حال اور صحیح لگتا ہے، " وہ کام جو تم نے کیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہو گا " ، { بحوالہ حقیقۃ الوحی ، صفحہ 108، رخ جلد22 }۔

میرے محترم ہم وطن، میں آپ کو اس خدا کی طرف بلاتا ہوں ، جسکی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں راہ دکھائی ہے اور جس راہ سے بد قسمتی سے آپ کے پردادا جان نے لوگوں کو ( شایدلا شعوری طور پر)بھٹکایا ہے۔

یہ دنیا چند روزہ ہے، لیکن اصل اور ہمیشہ کی زندگی آگے کی ہے اسکا فکر کرتے ہوئے ، کفریہ عقائد کو لات مارئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلی غلامی میں آ جائیں، اللہ تعالےٰ آپکو اس مصنوعی عزت کے بدلے اصل عزت سے اتنا زیادہ نوازے گا کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے، اور آپکے خوف کو ( جو ہر وقت انسانی حفاظتی حصار میں قید رہتے ہیں) امن اور آزادی میں بدل دیگا۔اللہ تعالےٰ آپکو حق اور جو دوسرے بھی اس خط کو پڑھیں ، ہدایت سے نوازے۔آمین۔ کیا میں آپ جناب سے جواب کی امید رکھوں؟

اگر خدا تعالےٰ نے توفیق دی تو میں ختم نبوت کے پہلو پر بھی آپ سے مرزا صاحب کے حوالوں کے ساتھ غور کرنے کی دوبارہ درخواست کرونگا۔

-

میں ہوں آپکا مخلص و ہمدرد

شیخ راحیل احمد {سابق احمدی}

2004 May 13

کھلا خط بنام مرزا مسرور احمد - حصہ دوئم

میرے محترم ، جب ہم اوپر کے حوالوں کو دیکھیں تو صورت یہ بنتی ہے کہ براہین احمدیہ ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے تین سو قوی دلائل کے ساتھ اسلام اور قرآن کی حقانیت و صداقت کی ضامن ہے اور یہ کتاب خدا تعالےٰ نے خود خفی اسرار کھول کر مرزا غلام احمد صاحب سے بطور ملہم، مامور و مجدد کے لکھوائی ہے اور مولف کو اس کتاب کی صحت اور صداقت پر اتنایقین ہے کہ اس نے ان دلائل کے توڑ کرنے والے کے لئے دس ہزار روپے کا انعام بھی رکھ دیا ہے ، اس مضبوط کتاب پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خواب میں آ کر خوشی اور رضا مندی کا اظہار کیا ہے، اور اس کتاب میں مصنف نے خدا کے سکھائے ہوئے اسرار و حقائق کے نتیجے میں حیات مسیح کا اقرار کیا ہے۔لیکن آج جماعت وفات مسیح کی موید ہے۔

فاضل مصنف فرماتے ہیں، " ھو الذی ارسل رسولہ با لھدیٰ و دین الحق لیظھرہ ُعلیٰ الدین کلہِ :۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ غلبہ حضرت مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا........حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے"

{ بحوالہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ، صفحہ593، رخ جلد1}۔

اس میں واضح طور پر مرزا غلام احمد صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں آنے کا اقرار کر رہے ہیں ، حوالے اور بھی ہیں مگر اس جگہ مقصد بحث نہیں بلکہ حق کی طرف بلانا ہے۔آئیے دیکھیں کہ کیا میں مطلب صحیح سمجھا ہوں ، مرزا صاحب اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں۔

" میں نے براہین احمدیہ میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے، وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آجکل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں سو اسی ظاہری اعتقاد سے میں نے لکھ دیا تھا..........لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی طور پر خلافت ہو گی۔

یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے صرف اس سر سری پیروی کی وجہ سے ہے"۔{ بحوالہ ازالہ اوہام، صفحہ 196، رخ جلد3 }۔ یعنی یہ اقتباس تصدیق کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے بھی براہین احمدیہ میں اپنے عقیدہ کے طور پر مسلمانوں کا 1300 سالہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے، کو بطور آثار مرویہ نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے درج کیا ہے۔

اور کیا یہ عقیدہ واقعی متفقہ عقیدہ تھا اس بارے میں ، میں آپکے پیشرو یعنی کہ خلیفہ ثانی ، جو کہ پسر موعود بھی کہلاتے ہیں مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں فرماتے ہیں،

" پچھلی صدیوں کے سب مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے بزرگ اس عقیدہ پر فوت ہوئے.............حضرت مسیح موعود ( مرزا غلام احمد صاحب )سے پہلے جس قدر اولیاء اور صلحاء گذرے ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ خیال کرتا تھا"۔ { بحوالہ حقیقۃ النبوۃ، صفحہ 142، مصنفہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب }

مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے پسر موعود کے ان حوالوں کو جو اب تک میں نے پیش کئے ہیں سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں

۱) براہین احمدیہ خدا کے کھولے ہوئے اسرار و حقائق کے تحت لکھی گئی جسکا ظاہراً و باطناً خدا خود ذمہ دار ہے،اور ہر لکھی ہوئی بات اتمام حجت ہے!

۲) مرزا صاحب نے اس میں ، حیات مسیح بن مریم کے بارہ میں اپنے عقیدہ کا اظہار، صحابہ کبار رضی اللہ عنہم ،اولیاء کرام ، صلحائے کرام اور عام مسلمانوں کے تیرہ سو سالوں کے عقیدہ کے مطابق کیا ہے۔

اب ہوتا کیا ہے کہ مرزا صاحب12سال تک اس عقیدہ کی اشاعت کرتے ہیں ، پھر اپنی کتاب’’ توضیح مرام‘‘ میں 92-1891 میں دعوی کرتے ہیں کہ خدا تعالےٰ نے ان پر بارش کی طرح الہامات کر کے بتایا ہے کہ قرآن کریم میں تین جگہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے اوراگلی کتاب" ازالہ اوہام "میں یہ تیس جگہ بن گئی، کس طرح دعووں میں ترقی کرتے ہیں ، انکے ذکر کا یہ موقع و محل نہیں اب جو انتہائی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں، میں ان پر بعد میں آتا ہوں ، اس سے قبل ایک دو نہایت اہم حوالہ جات پیش کرنا چاہتا ہوں، جناب مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں،" ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔" { بحوالہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، صفحہ 262، رخ جلد 12}۔
-
اور دوسری جگہ لکھتے ہیں، " فمن سوع الادب ان یقال ان عیسیٰ ما مات ان ھوا لاشرک عظیم یا کل الحسنات۔ ترجمہ:۔ سو من جملہ سوادب کے ہے کہ یہ کہا جائے کہ عیسیٰ مرا نہیں ، یہ تو نرا شرک عظیم ہے۔ جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے،" { بحوالہ الا ستفتاء ، صفحہ 660، رخ جلد22 }

کھلا خط بنام مرزا مسرور احمد

بسم اللہ الرّحمٰنِ الرَّ حِیم ۔ نحمدُ ہ‘ وِ نُصَلِیّ علیٰ رسُولِہِ الکریم

کھُلا خط

منجانب شیخ راحیل احمد ________ بنام _________ جناب مرزا مسرور احمد صاحب

سابق احمدی، سکنہ ربوہ، (حال مقیم) جرمنی ____ خلیفہ و مرکزی سر براہ انٹر نیشنل جماعت احمدیہ، لندن

السلام

جناب ، آپ نے اس عاجز کا نام تو سنا ہوا ہے ، مجھے صحیح طرح علم نہیں کہ آپکے عہدیداران نے آپکے سامنے میری کیاتصویر پیش کی ہے لیکن میں چونکہ اس نظام کا پچاس سال سے زیادہ ایک فعال حصہ رہا ہوں جسکی اب آپ سر براہی کر رہے ہیں اس لئے اندازہ کر سکتا ہوں کہ آپکے سامنے میری تصویر ایک بھیانک قسم کے دشمن کے طور پر پیش کی گئی ہو گی، لیکن میں آپ کو اس کھلے خط کے ذریعہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نہ تو آپکا اور نہ ہی جماعت احمدیہ کادشمن ہوں، بلکہ میں آپ لوگوں کا اللہ کی خاطرہمدرد اورمخلص ہوں اور میرا یہ خط اسی خلوص کا مظہر ہے۔

میں صرف مرزا غلام احمد صاحب کے ان خیالات و عقائدسے جو اسلام کی اصل تعلیم کے خلاف ہیں، اختلاف کرتا ہوں اور آپ کی جماعت میں شامل اپنے عزیزوں اور دوستوں کی محبت سے مجبور ہو کر ان کو دیانتداری سے ان کفریہ اور توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم والے خیالات سے بچانا چاہتا ہوں۔اور آپ کو بھی یہ چند سطور لکھنے کی وجہ قران کریم کے اس حکم کے تعمیل ہے، کہ دوسروں کو نیکی کی طرف بلاو ، کیونکہ ہم دونوں ایک ہی شہر کے رہنے والے ہیں یعنی کہ چناب نگر ( سابقہ ربوہ) کے، اس لئے آپ کا مجھ پر حق ہے اور میرا فرض ہے کہ میں آپکو اس نیک بات کی طرف بلائوں، جس کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے اذن سے دیا ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اورحیات عیسیٰ علیہ السلام، چودہ صدیوں سے مسلمانان عالم کے متفقہ عقائد ہیں ، اور آپ کے پردادا و بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب بھی کم و بیش 52 سال تک ان عقائد سے متفق رہے۔
اور ان کے عقائد میں اس وقت تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی جب ان کو بشیر اول کی وفات کے کچھ عرصہ بعدہسٹیریا اور مراق وغیرہ کے دورے پڑنے شروع ہوئے خاکسار اس بات کو مرزا غلام احمد صاحب کے اپنی تحریر کے حوالوں سے پیش کرتا ہے۔
مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کی پہلی دو جلدیں 1880 میں شائع کیں، تیسری 1882 میں اور چوتھی1884 میں اور پانچویں جلد23 سال کے بعدشائع ہوئی۔اس کتاب (براہین احمدیہ ) کے بارہ میں مرزا غلام احمدصاحب کے دعویٰ جات یہ ہیں:۔( دعوے تو بہت ہیں صرف چند کا ذکر کر رہا ہوں )

1-- " اس عاجز نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے'' ۔ { اشتہار اپریل 1879 ، مجموعہ اشتہارات ج۱/ ص۱۱}

2-- " کتا ب براہین احمدیہ جسکو خدا تعالےٰ کی طرف سے مولف نے ملہم اور مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔..........اول تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت و قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپے دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے۔(ص 23)

اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں ( ص 24 )

اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے"۔( ص 25 ) { بحوالہ اشتہار نمبر ۱۱، مجموعہ اشتہارات جلد ۱، صفحہ 23 تا 25 }

3-- " اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی جمیعت بخش سکتی ہے کہ جو بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہو''۔ { بحوالہ اشتہار نمبر 16، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ ، صفحہ 43 }

4-- "یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنی اَ نَا رَبُّکَ آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب اس کتاب کا متولی اورمہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے۔" { اشتہار نمبر 18، مجموعہ اشتہارات جلد۱، صفحہ 56 }

Saturday, August 15, 2009

ایسے بھی ہوتے ہیں خوش نصیب!

قادیانی مذہب سے تائب ہونے والے22 سالہ نومسلم نوجوان جناب مصطفی احمد صدیقی کے قبول اسلام اور اس کے عظیم الشان جنازہ کی سوزو گداز میں ڈوبی ہوئی ایمان افروز رُوداد

تحریر و تحقیق
محمدمتین خالد


انٹرنیٹ کی حیرت انگیز ایجاد نے دنیا کو گاﺅں بنا دیا ہے۔ آپ کسی بھی موضوع سے متعلق اپنے گھر بیٹھے دنیا بھر کی معلومات پلک جھپکتے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں مختلف مذاہب عالم کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر بھی کرتے ہیں۔ ان میں قادیانی سب سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ وہ اپنے مذہب کو اسلام اور خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس طرح وہ حق کے متلاشی غیر مسلموں کو اور بعض اوقات مسلمانوں کو شکوک و شبہات اور باطل تاویلات کے ذریعے گمراہ کر کے پھانس لیتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر قدرت حق بعض افراد کا انتخاب خود کرتی ہے۔ ایسے ہی خوش نصیبوں میں جناب پروفیسر سمیر ملک صاحب ہیں جو اپنی مخلص ٹیم کے ساتھ انٹرنیٹ پر قادیانیوں سے مناظرے کرتے ہیں۔ اس ٹیم میں جناب عامر خورشید صاحب، جناب عبداللہ صاحب، جناب عمر شاہ صاحب اور جناب سید محمد گیلانی صاحب نمایاں طور پر پیش پیش ہیں۔ ردقادیانیت کے ماہر یہ نوجوان حضرات نہ صرف قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے زہریلے اور باطل شکوک و شبہات کا مکمل دلائل کے ساتھ جواب دیتے ہیں بلکہ برجستہ متنازعہ قادیانی عبارات پیش کر کے انھیں میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس ٹیم کے ایک دبلے پتلے لیکن ایمانی طور پر نہایت مضبوط اور متحرک نوجوان جناب سیّد محمدگیلانی کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ وہ تحریک ختم نبوت کے نامور اور بے باک مجاہد بزرگ جناب سیّد محمد امین گیلانی ؒ کے پوتے اور منفرد طرز کے معروف شاعر اسلام جناب سید سلمان گیلانی کے صاحبزادے ہیں۔ گیلانی دن بھر اپنے دفتر میں کام کرتے اور رات کو پوری مستعدی اور تندہی کے ساتھ انٹرنیٹ پر تحفظ ختم نبوت کے محاذ کو سنبھالتے ہیں۔ ایک رات وہ قادیانیوں کے شکوک و شبہات کا جواب دے رہے تھے کہ اچانک ایک قادیانی نوجوان نے گیلانی کو سوال کیا ”آپ کہتے ہیں کہ قادیانی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی اللہ تعالیٰ کے گستاخ تھے۔ یہ بات آپ کے مولویوں کا پروپیگنڈا ہے۔ حضرت مسیح موعود مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ اس کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟“ یاد رہے کہ جب اس قادیانی نوجوان نے جناب گیلانی کو یہ سوال کیا تو اس وقت انٹرنیٹ پر 100 سے زیادہ قادیانی اس بحث کو براہ راست ملاحظہ کر رہے تھے۔ بہرحال گیلانی نے بڑی توجہ سے اس سوال کو پڑھا اور اس قادیانی نوجوان سے کہا کہ میں آپ کے سامنے مرزا صاحب کی کتاب کشتی نوح کا صفحہ نمبر 47 (مندرجہ روحانی خزائن ج 11 ص 50) کا عکس پیش کرتا ہوں۔ آپ اور باقی قادیانی حضرات سے میری گزارش ہے کہ اسے بغیر تعصب کے غیر جانبدار ہو کر غور سے پڑھیں اور دیکھیں مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی شان میں کس قدر بھیانک گستاخی کا ارتکاب کیا۔ یہ اقتباس مندرجہ ذیل تھا۔”اُس (اللہ تعالیٰ) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ ؑ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“ (کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)
پھر اسی سے متعلقہ مرزا قادیانی کے ایک مرید کی کتاب سے دوسرا حوالہ پیش کیا:۔
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“ (اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)۔
اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ، خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ پھٹ اور زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہوئی، جس کا نقد انعام اسے دنیا میں لیٹرین میں عبرتناک موت کی صورت میں ملا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
قادیانی نوجوان نے مرزا قادیانی کی کتاب سے پیش کردہ عکس دیکھا، پڑھا تو وہ حیرت اور پریشانی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ اس نے نہایت پریشانی اور منت سماجت کے لہجہ میںگیلانی سے کہا: بھائی! خدارا اپنا فون نمبر دے دو۔ میں اس حوالہ کی تحقیق کے بعد آپ سے رابطہ کروں گا۔گیلانی نے اسے اپنا موبائل نمبر دے دیا۔ تیر ٹھیک نشانے پر لگ چکا تھا۔ رات کے 2 بج رہے تھے، قادیانی نوجوان سونے کے لیے اپنے کمرے میں آگیا مگر نیند کوسوں دور تھی۔ پریشانی کے عالم میں تمام رات بستر پر کروٹیں لیتا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے اپنے جاننے والے قریبی قادیانی مبلغین سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ”مجھے اپنے مذہب پر شک ہے۔ میرے کچھ سوالات ہیں، مجھے ان کا جواب چاہیے۔ میں اپنی آخرت برباد نہیں کرسکتا“۔ قادیانی مبلغین فوری طور پر اُس کے گھر پہنچے اور کہا: بتاﺅ تمہارا کون سا سوال ہے؟ اس پر قادیانی نوجوان نے مرزا قادیانی کی کتاب کشتی نوح کا مذکورہ حوالہ پیش کیا اور کہا، کیا کوئی صحیح العقل آدمی ایسی باتیں کر سکتا ہے؟ قادیانی مبلغین نے حوالہ دیکھا تو سکتے میں آ گئے اور اس کی مختلف تاویلات کرنا شروع کر دیں۔ نوجوان نے کہا کہ وہ کوئی تاویل سننے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اب وہ اپنے مذہب کا غیر جانبدار ہو کر مزید مطالعہ کرے گا۔ اس پر قادیانی مبلغین بڑبڑاتے ہوئے غصے کے عالم میں چلے گئے۔ چند دنوں بعد نوجوان نے گیلانی کو فون کر کے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسامہ نے بخوشی اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اس کی خوب آﺅ بھگت کی، اس کے سوالات کے جواب دیے، شبہات دور کیے اور چند کتابیں ثبوت حاضر ہیں، احمدی دوستو! تمھیں اسلام بلاتا ہے، چھوٹا منہ بڑی بات، رد قادیانیت کے زریں اصول اور قادیانی شبہات کے جوابات وغیرہ پیش کیں اور درخواست کہ وہ ان کتابوں کا بغور مطالعہ کرے۔ نوجوان نے وعدہ کرتے ہوئے اجازت چاہی۔ چنانچہ اُس نے مذکورہ کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور جہاں شک ہوا، وہاں متنازعہ حوالہ جات کا مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اصل قادیانی کتب سے موازنہ کیا۔ ساتھ ساتھ انٹر نیٹ پر سمیر ملک اور گیلانی کے قادیانیوں سے مناظروں کو بھی بغور ملاحظہ کرتا رہا اور یہاں سے اہم حوالہ جات نوٹ کرتا رہا۔ تقریباً ایک ہفتہ بعد اس کا فون آ گیا۔ اس نے بھرائی ہوئی رقّت آمیز آواز میں کہا: ہیلو،گیلانی! مبارک ہو! میں نے حق کو پا لیا۔ میں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ گیلانی نے نہایت خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا: ¾مرحبا مرحبا، مصطفی احمد صدیقی! مرحبا، اب تم میرے بھائی ہو۔ میں تمھیں لینے کے لیے خود تمھارے گھر آ رہا ہوں۔گیلانی بجلی کی تیزی سے مصطفی احمد صدیقی کے گھر پہنچا۔ اسے گلے لگایا، ہاتھ چومے اور مجاہدین ختم نبوت کی ایک ٹیم کے ساتھ اسے حضرت نفیس شاہ الحسینیؒ کے ہاں لے گیا۔ جہاں حضرت کو تمام داستان سنائی۔ علالت کے باوجود حضرت نے نہایت خندہ پیشانی سے کھڑے ہو کر اس نوجوان کو گلے لگایا۔ اسے اسلام قبول کروایا اور ایمان کی اہمیت و فضیلت کے بارے میں تفصیلاً بتایا۔ اس موقع پر حضرت نے مصطفی احمد صدیقی کے اعزاز میں ایک پرتکلف چائے کا اہتمام کیا اور آخر میں ڈھیر ساری دعاﺅں کے ساتھ اسے اپنی خانقاہ سے رخصت کیا۔ایک دفعہ مصطفی احمد صدیقی نے اپنے قریبی دوستوں کی محفل میں اپنا ایک ایمان افروز خواب بیان کرتے ہوئے کہا”میرے والد محترم رفیق احمد صدیقی قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر چکے تھے۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ بعد اُن کا انتقال ہوگیا۔ ایک رات وہ میرے خواب میں تشریف لائے۔ نہایت سفید رنگ کا بہترین کرتا شلوار پہنے، ہاتھ میں تسبیح لیے، درود شریف پڑھتے ہوئے مسجد کی طرف جاتے ہوئے مجھے گلے لگایا اور آسمان سے آتی ہوئی نور بھری روشنی کی طرف اشارہ کر کے مجھے اُسے حاصل کرنے کی تلقین کی۔ گویا میرے والد محترم مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دے رہے تھے“۔
اسلام قبول کرنے کے بعد مصطفی احمد صدیقی کی کایا پلٹ چکی تھی۔ پہلے وہ قادیانیت کا دفاع کرتا تھا، اب وہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں رات بھر انٹرنیٹ پر بیٹھا رہتا اور قادیانیوں کو مناظرے اور مباحثے کی دعوت دیتا۔ انہیں قادیانی کتب سے متنازعہ عبارات پڑھنے کی ترغیب دیتا، آنجہانی مرزا قادیانی کے غلیظ کردار اور اس کے جھوٹے ہونے پر انھیں ناقابل تردید حوالے اور شواہد پیش کرتا، اس حوالے سے انہیں چیلنج کرتا اور پھر انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا۔ اس پر قادیانی اپنے جھوٹے نبی کی عادت پر عمل کرتے ہوئے اسے گندی گالیاں دیتے، نقلی مسلمان کہہ کر اس کا تمسخر اڑاتے اور اسے عبرتناک انجام کی دھمکیاں دیتے۔ لیکن وہ یہ سب کچھ بڑے تحمل اور صبر سے سنتا اور انھیں کہتا خدا کی قسم! میں تمہارا سچے دل سے خیرخواہ ہوں۔ میں تمھیں جہنم کی آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروانا چاہتا ہوں۔ مصطفی احمد صدیقی مسلسل 2 سال تک انٹرنیٹ پر یہ جانگسل فرائض سرانجام دیتا رہا۔ اس دوران وہ اکثر قادیانیوں سے پوچھتا کہ تمہاری محفلوں میں ہر وقت مرزا قادیانی کا ذکر ہوتا ہے، لیکن حضور خاتم النبیین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک نہیں ہوتا، آخر کیوں؟ قادیانیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوتا اور وہ خاموش ہو جاتے۔ مصطفی احمد صدیقی اپنے گھر والوں کو دعوت اسلام دیتا مگر گھر والے اس سے انتہائی متعصبانہ اور سوتیلے پن کا برتاﺅ کرتے، اُسے اسلام چھوڑنے پر مجبور کرتے لیکن وہ پہاڑ ایسی استقامت لیے مضبوطی سے اس پر قائم رہا۔ قادیانی مبلغین نے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اس نے ہمیشہ انہیں شکست فاش دی۔ وہ اکیلا اُن سے مناظرے کرتا اورانہیں لاجواب کر دیتا۔ ایک دفعہ اُس کے ماموں طاہر،کزن نعمان (انتہائی متعصب اور جنونی قادیانی) اور مبلغین نے مصطفی احمد صدیقی سے کہا کہ بتاﺅ تمہیں قادیانی مذہب کی کس چیز پر اعتراض ہے؟ اس پر مصطفی احمد صدیقی نے اُنہیں کہا کہ مرزا قادیانی جسے آپ نبی، رسول، مسیح موعود اور مہدی وغیرہ کہتے ہیں، اس کا کردار اس قابل نہیں کہ اُسے ایک شریف انسان بھی کہا جاسکے۔ اُس کی تمام پیش گوئیاں جھوٹ ثابت ہوئیں۔ پھر اس نے مرزا قادیانی کی وحیوں پر مشتمل کتاب ”تذکرہ“ سے ایک نشان زدہ صفحہ نکال کر دکھانے کی کوشش کی تو اُس کے کزن نعمان نے اُس سے زبردستی کتاب چھین لی اور اُسے برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ بعض نبیوں کی پیش گوئیاں بھی پوری نہیں ہوئی تھیں(نعوذ باللہ) اس پر مصطفی احمد صدیقی نے اُنہیں چیلنج کیا کہ اگر آپ قرآن و سنت سے اس کی کوئی ایک بھی مثال پیش کر دیں تو میں آپ کو منہ مانگا انعام دوں گا۔ اس پر سب کو سانپ سونگھ گیا اور وہ غصے کے عالم میں واپس چلے گئے۔علامہ اقبال ٹاﺅن میں قادیانی مبلغین کے ساتھ ایک اور مناظرے کے دوران جب مصطفی احمد صدیقی نے مرزا قادیانی کے کردار پر بحث کرتے ہوئے انہیں لاجواب کیا تو اس کے کزن نعمان نے بے اختیار اسے گندی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ اس کے ماموں طاہر نے کہا کہ تم مرتد ہو گئے ہو، قادیانی مبلغین نے کہا کہ مولویوں نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔ نوجوان نے یہ سب کچھ بڑے تحمل سے سنا، برداشت کیا اور پھر اعتماد سے کہا آپ مجھے مطمئن کرنے آئے ہیں یا ذلیل۔ کیا یہی خوش اخلاقی ہے جس کا آپ ہر وقت پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ آپ کا تو نعرہ ہے”Love for all hatred for none”یعنی”محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں“۔ لیکن آپ سب کچھ اس کے برعکس کر رہے ہیں۔ بہر حال آپ مجھے اس سے بھی زیادہ طعن و تشنیع کرلیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ میرے عقیدے کا معاملہ ہے۔ آپ مجھے مطمئن کریں اور میرے سوالات کا جواب دیں۔ لیکن وہ سب نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔ کچھ عرصہ پہلے مصطفی احمد صدیقی نے گیلانی کو فون پر بتایا کہ میرے ماموں طاہر نے مستقل طور پر ایک خطرناک قادیانی مربی میرے پیچھے لگا دیا ہے۔ وہ اکثرمجھے قادیانی عبادت گاہ میں بلاتا ہے لیکن میں اکیلے نہیں جانا چاہتا۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔ گیلانی نے جناب سمیر ملک سے رابطہ کیا تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ کسی قریبی عزیز کی شادی کے سلسلہ میں شہر سے باہر جارہے تھے، لیکن انھوں نے گاڑی واپس اپنے گھر کی طرف موڑ لی اور تھوڑی دیر کے بعد مناظرے کے لیے بتائے ہوئے ایڈریس پر قادیانی عبادت گاہ واقع گلشن راوی پہنچ گئے۔ جناب سمیر ملک نے قادیانی مبلغ کو مناظرے کے میدان میں چاروں شانے چت کردیا۔ مربی نے فوراً مصطفی احمد صدیقی کے ماموںطاہر احمد کو فون کیا اور کہا کہ یہ لڑکا ہمارے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل چکا ہے اور جماعت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے بعد اُسے باقاعدہ دھمکیاں ملنی شروع ہوگئیں۔
13 فروری 2009ءکی شام مصطفی احمد صدیقی اپنے دفتر سے گھر جا رہا تھا کہ سڑک پر بارش کی پھسلن سے اس کا موٹر سائیکل ایک ریہڑے سے ٹکرایا اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوراً جناح ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ اپنے خاندان میں واحد مسلمان اور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کا والد کئی سال بیشتر فوت ہو چکا تھا۔ گھر میں کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے ماں اپنے بیٹے کی میت اپنے بھائی (مصطفی صدیقی کا ماموں طیب قادیانی) کے گھر مرغزار کالونی لے آئی۔ جہاں تمام قادیانی رشتہ دار اکٹھے ہو گئے۔ مصطفی احمد صدیقی کی بڑی ہمشیرہ کینیڈا رہتی ہیں۔ اس نے درخواست کی کہ وہ اپنے بھائی کا آخری دیدار کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا اس کی تدفین ایک دن کے لیے ملتوی کر دی جائے۔ چنانچہ مصطفی احمد صدیقی کی میت عادل ہسپتال مین بلیوارڈ ڈیفنس کے سرد خانے میں رکھ دی گئی۔ ہفتہ کی رات کارکنانِ ختم نبوت کو اس حادثہ فاجعہ کا علم ہوا توجناب عامر خورشید صاحب نے فوراً دوستوں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں ختم نبوت لائیرز فورم کے عہدیداروں کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی۔ اجلاس میں سب سے پہلے اس بات پر غور و خوض کیا گیا کہ کہیں یہ قتل کی واردات تو نہیں؟ اس کی فوری تفتیش کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے جائے وقوعہ سے ٹھوس شہادتیں حاصل کرنے کے بعد ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جن کے پاس مصطفی احمد صدیقی صاحب کو جناح ہسپتال لے جانے کا ریکارڈ تھا۔ پھر جناح ہسپتال کی ایمرجنسی سے بھی رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مصطفی احمد صدیقی کے سینے اور چہرے پر زخموں کے نشان تھے اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ تھا۔اس کے بعد قادیانیوں سے مسلمان میت کے حصول کا معاملہ پیش آیا۔ چنانچہ بزرگوں سے مشورہ کرنے کے بعد کارکنان ختم نبوت کی ایک ٹیم اہل محلہ کے ساتھ قادیانیوں کے گھر گئی اور انھیں بتایا کہ چونکہ مصطفی احمد صدیقی قادیانی مذہب سے تائب ہو کر مسلمان ہو چکا تھا۔ اس لیے اس کی تجہیز و تکفین کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا آپ اس کی میت ہمارے حوالہ کر دیں، ہم اسے اسلامی طریقہ سے سپرد خاک کرنا چاہتے ہیں۔ قادیانیوں نے شروع میں کچھ لیت و لعل سے کام لیا مگر بعد میں کارکنان ختم نبوت کے جذبے اور تیور دیکھ کر میت برادر گرامی جناب عامر خورشید صاحب کے حوالہ کر دی۔ کارکنان ختم نبوت فرط جذبات سے میت سے لپٹ گئے اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ کوئی مصطفی احمد صدیقی کی پیشیانی چوم رہا تھا اور کوئی اس کے پاﺅں کو بوسہ دے رہا تھا۔ قادیانی یہ منظر دیکھ کر حیران ہو رہے تھے…. انھیں واقعی حیران ہونا چاہیے تھا۔ میت کو مسنون طریقے سے غسل دے کر نہایت سفید اور اجلا کفن پہنایا گیا۔ میت کے اردگرد گلاب کے ہزاروں پھول مصطفی احمد صدیقی کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ کوئی یقین نہیں کر رہا تھا کہ میت پر 40 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ کیونکہ اس کے جسم سے معطر اور بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ مصطفی احمد صدیقی کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح نہایت خوبصورت اور تر و تازہ تھا۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ طاری تھی۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور اچانک بیدار ہو کر ابھی سب کو حیران کر دیں گے۔ جنازہ اٹھانے سے پہلے مصطفی احمد صدیقی صاحب کی والدہ اور بہنوں نے چہرہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بزرگوں سے مشورہ کے بعد اس امید پر کہ شاید اللہ تعالیٰ انھیں بھی ہدایت نصیب فرما دے، اجازت دے دی گئی۔ ان کے ساتھ اور بھی رشتہ دار خواتین تھیں۔ وہ دیر تک مصطفی احمد صدیقی کے چہرے کا آخری دیدار کرتی رہیں۔ مصطفی احمد صدیقی کی والدہ نے جانے سے پہلے وہاں پر موجود کارکنان ختم نبوت کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا: ”آفرین ہے آپ پر، آپ لوگوں نے میرے بیٹے کو دولہا بنا دیا ہے۔“ اس پر ایک کارکن نے جواباً کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اپنے بیٹے کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ٹھیک دو بجے جب مصطفی احمد صدیقی کا جنازہ تدفین کے لیے اٹھایا گیا تو فضا کلمہ طیبہ کے ورد سے گونج اٹھی۔ لوگ پرجوش جذبات میں نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، تاجدار ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ سینکڑوں روتی ہوئی آوازوں کا ایک تسلسل تھا جو تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ یہ ایک ایسا ایمان افروز منظر تھا جسے کبھی نہ بھلایا جا سکے گا۔ قادیانیوں کا خیال تھا کہ اس نوجوان کے جنازہ میں محض گنتی کے چند لوگ شریک ہوں گے۔ ایسے موقع پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ یادآتے ہیں جنہوں اپنے ایک مخالف کے جواب میں فرمایا تھا۔”حق و باطل کے درمیان ہمارے مقام کا تعین خود ہمارا جنازہ کرے گا“ مصطفی احمد صدیقی کے جنازے نے فیصلہ کردیا تھا کہ وہ حق پر ہے اوراس کے مخالفین باطل۔مجاہد ختم نبوت کی میت کو کندھا دینے کے لیے ہر شخص اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا تھا۔ کئی عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کی چارپائی کو ہاتھ لگا کر اپنے جسم پر پھیرتے اور اس کو اپنے لیے باعث برکت کہتے۔ نمازِ جنازہ مجاہد ختم نبوت ممتاز عالم دین، حضرت مولانا عبدالرحمن مدظلہ¾ نے پڑھائی۔ مرکز سراجیہ کے مہتمم جناب صاحبزادہ رشید احمد مدظلہ¾ اور مولانا محب النبی سمیت علماءکرام کی بڑی تعداد نے جنازہ میں شرکت فرمائی۔ مصطفی احمد صدیقی کے قریبی دوستوں جناب میاں آصف جاوید صاحب اور جناب وقار الحسن صاحب کے علاوہ دنیا ٹی وی چینل کے درجنوں کارکنوں نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر احقر نے شرکاءجنازہ سے خطاب کرتے ہوئے انھیں جناب مصطفی احمد صدیقی کے قبول اسلام کی پوری روداد سنائی اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر اس کی گرانقدر خدمات بیان کیں۔ احقر نے عرض کیا کہ عموماً جنازے میت کی مغفرت کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ جنازہ خود شرکاءکی بخشش کا ذریعہ ہے۔ یہ رتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا۔ میں نے عرض کیا کہ اس نوجوان کی عمر صرف 2 سال تھی کیونکہ اس نے 20 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور 22 سال کی عمر میں اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔ وہ ایک ناگہانی حادثے کا شکار ہوا اور اس لحاظ سے اسے شہادت کا مرتبہ بھی حاصل ہے۔ مصطفی احمد صدیقی کے جسد خاکی کو جب لحد میں اتارا گیا تو فضا ایک بار پھر ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر نہایت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ کارکنان ختم نبوت دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور الوداع الوداع مصطفی احمد صدیقی الوداع کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس وقت مجھے محترم نعیم صدیقی کی یہ نظم (ایک دو لفظوں کی تبدیلی کے ساتھ) فضا میں تلاطم برپا کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ ادب سے اس نعش کو اتارو!۔
رسن کا حلقہ ادب سے کھولو!۔
دبے دبے پاﺅں، ہولے ہولے، سبک سبک طرز سے چلو یاں!۔
ادب سے لو سانس دھیما دھیما، بلند آواز میں نہ بولو!۔
تمام دیوار و در سجاﺅ، تمام ماحول کو سنوارو!۔
درود پڑھ کر، سلام کہہ کر، یہاں پہ نذرِ وفا گزارو!۔
ادب سے اس نعش کو اتارو!۔
یہ نعش مصطفی احمد صدیقی کی ہے!۔
مصطفی احمد صدیقی! جس نے اذیتوں سے مئے تمنا کشید کی ہے!۔
مصطفی احمد صدیقی! جس نے بدن کے بدلے حیاتِ دائم خرید کی ہے!۔
یہ پاک میت ہے ایک سورج! ضیاءیہ صبحِ امید کی ہے!۔
مصطفی کی نعش کے ادب میں!۔
تمام تاریخ رک گئی ہے!۔
زماں کی گردش ٹھہر گئی ہے!۔
ہیں علم و فن دست بستہ حاضر
مصطفی کی نعش کے ادب میں تمام تہذیب جھک گئی ہے
وہ روحِ سقراط آ رہی ہے جلو میں شاگرد اپنے لے کر ادھر یہ دیکھو حسینؓ بسمل!!!۔
یہ ابن حنبل، امام مالک، ادھر جناب ابوحنیفہ!۔
کسی کے ہاتھوں میں تیغ براں، کوئی لیے خامہ و صحیفہ!۔
سدا بہار اپنے زخم لے کر، پرو کے زخموں کے ہار لائے!۔
مری نگاہیں یہ دیکھتی ہیں!۔
فلک سے قدسی اتر رہے ہیں!۔
پرے وہ باندھے ہوئے مسلسل
صلیب گہ سے گزر رہے ہیں
وہ حوریں آئیں اٹھائے پرچم
نئے مجاہد کا خیر مقدم
حکایتِ جہد آدمی کا یہ نعش عنوان بن گئی ہے
یہ جانِ ایمان بن گئی ہے! یہ حشرت سامان بن گئی ہے!۔
ادب سے اس نعش کو اتارو!۔
الوداع! مصطفی احمد صدیقی، الوداع!!!۔

قارئین کرام! رات آدھی سے زیادہ ڈھل چکی ہے۔ میں اپنی لائبریری میں بیٹھا اکیلا رنج و الم کے عالم میں یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں۔ تصور میں اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ جناب مصطفی احمد صدیقی میرے سامنے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں۔ انکل متین! آپ کا اور آپ کے تمام ساتھیوں کا بہت بہت شکریہ۔ میں نے کہا: کس بات کا؟ کہنے لگے: آپ لوگوں نے مجھے جہنم سے نکالا اور میری تجہیز و تکفین بڑے شایان شان طریقے سے کی۔ میں نے عرض کیا: یہ تو ہمارا فرض تھا۔ پھر نجانے کیوں میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ اس پر مصطفی احمد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے انکل۔ کیا آپ اللہ کی رضا پر خوش نہیں؟ میں نے عرض کیا: یار صدیقی! میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہزار بار خوش ہوں۔ تم ایسا آفتاب ہو جس کی روشنی سے بے شمار تاریک دل منور ہوئے، تم ملت اسلامیہ کے ماتھے کا جھومر ہو، تم لاکھوں میں ایک ہو، تم نے عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کر کے ہمارے جذبوں کو ازسرنو زندہ کیا ہے۔ اس لیے ایک کمزور انسان ہونے کے ناتے تمہاری جدائی برداشت نہیں ہو رہی۔میں روتے ہوئے اسے کہتا ہوں، صدیقی! تمھیں معلوم ہے کہ تمھارے دوست کس قدر غم سے نڈھال ہیں، وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہیں، تمہاری جدائی میں وہ مسلسل آنسو بہا رہے ہیں، تمھارے بغیر انٹرنیٹ پر بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہو رہے اور ہاں! تمہارا جگری دوست گیلانی ، ابھی تک تمہاری موت کا یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اس پر مصطفی صدیقی مجھے کہتے ہیں: ”انکل! آپ کو معلوم نہیں کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کی کس قدر بارش ہو رہی ہے۔ فرشتے میری قسمت پر رشک کر رہے ہیں۔ یہ محض تحفظ ختم نبوت کے کام کی برکت کا نتیجہ ہے۔ آپ سب دوستوں کو میرا پیغام دے دیں کہ آخرت میں کامیابی کا سب سے آسان راستہ صرف تحفظ ختم نبوت کا کام ہے۔ بے شمار قادیانیوں کو نہیں معلوم کہ وہ کس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں؟ ان بھولے بھٹکے قادیانیوں کو دعوت اسلام دینا ہمارا اوّلین فریضہ ہے، اس سے ذرا سی بھی روگردانی یا کوتاہی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ناراض ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس محاذ پر پہلے سے زیادہ محنت اور مستعدی سے کام کریں۔ آپ ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے۔“ میں سسکیوں اور ہچکیوں میں مصطفی صدیقی سے دست بستہ عرض کرتاہوں! یار مصطفی! روز قیامت اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمسے ہماری مغفرت کے لیے بھی درخواست کر دینا۔ اس پر مصطفی کہنے لگا: انکل! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ سب دوستوں کی مغفرت و بخشش کی ضرور درخواست کروں گا۔ پھر وہ قریب آ کر میرے کان میں سرگوشی کے انداز میں مسکرا کر کہتا ہے: میں آپ دوستوں کے بغیر جنت میں نہیں جاﺅں گا۔ پھر وہ سلام کہہ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسی اثناءمیں قریبی مسجد سے تہجد کی اذان بلند ہوتی ہے۔ میں اسے قبولیت کی گھڑی تصور کرتا ہوں۔ اللھم صلی علیٰ محمد خاتم النبیین و خاتم المرسلین۔

Friday, August 14, 2009

سوانح حیات شیخ راحیل رحمۃ اللہ

ابوجان( مرحوم) نے مرزا غلام قادیانی کی تمام تحریروں کا مطالعہ کیا اور تنظیم کے اصلی روپ کو بہت قریب سے دیکھا ذوالفقار علی(لندن)۔

بلاشبہ اﷲ عزوجل ہی تمام تعریف کے لائق ہے اور اﷲ عزوجل نے ہی انسانوں کے دلوں کو اس طرح بنایا کہ وہ انوار الٰہی کے فیضان کی استطاعت رکھتے ہیں اور بعض انسانوں پر اﷲ پاک اپنا خاص کرم کرتے ہیں اور ان کو کسی نہ کسی صورت میں دینی کا کام کرنے کی ہمت عطا فرماتے ہیں۔ شیخ راحیل احمد ( مرحوم) بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک تھے جن پر خدائے بزرگ برتر نے اپنا خاص کرم کیا اور اُنہیں منکران ختم نبوت سے نکال کر سیدھے راستے پر گامزن کیا اور پھر ان کو ہمت عطا فرمائی کہ وہ اپنی آخری سانسوں تک قادیانی جماعت میں پھنسے ہوئے لوگوں کو سیدھی راہ پر واپس لانے کی جستجو میں لگے رہے۔

شیخ راحیل احمد ( مرحوم) رشتے کے اعتبار سے میرے سسر تھے مگر در حقیقت وہ میرے لئے ایک باپ کی حیثیت اختیار کر گئے تھے اور میری شادی کے بعد سے آخرتک اُنہوں نے مجھے صرف اپنا بیٹا ہی مانا اور جانا ان کی موت کے بعد آج مجھے محسوس ہوا ہے کہ میں دوسری بار یتیم ہوا ہوں ایک دفعہ تب جب میرے والد حقیقی اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اب جب شیخ راحیل احمدؒ مجھ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے۔ والد کا ساےہ شفقت سبھی کے لئے نعمت عظمیٰ ہے لیکن ان کو اس نعمت کے چھن جانے کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے جن کے باپ شیخ راحیل احمد ( مرحوم) کی طرح ہوتے ہیں باقی ےہ ہے کہ دنیا سے کوچ کا ےہ سفر ہر ایک کو درپیش ہے بس دُعا ےہی ہے کہ اﷲتعالیٰ ان کو ابدی سکون اور عیش عشرت کے انعامات و کرامات نصیب فرمائے اور ہم سب کو صبر عطا فرمائے ( آمین)۔ شیخ صاحب ( مرحوم) سے مجھے ہمیشہ وہی پیار ، وہی سلوک اور وہی شفقت ملی جو کہ مجھے میرے حقیقی باپ سے ملی ےہ میرے لئے ممکن نہیں کہ اپنے دُکھ کا پوری طرح اظہار اپنے قلم سے کرسکوں اور ان کی شخصیت کے تمام پہلووں کو قلم بند کرسکوں مگر اپنے تئیں ایک کوشش کر رہا ہوں تا کہ جتنا میں نے ان سے سیکھا اور جتنا میں ان کو دیکھا اور جانا وہ ان کے چاہنے والوں کو بتاسکوں۔

میری شادی جو لائی 2004ءمیں ان کی صاحبزادی سے ہوئی، 2004ءسے 2009، کا تعلق اتنا بہت بڑا عرصہ تو نہیں مگر ےہ ان کی شخصیت کا ایک کمال تھا جو اتنے چھوٹے سے عرصے میں اُنہوں نے مجھے اپنے اتنے قریب کردیا کہ مجھ پر ان کی شخصیت کے پہلو ایک کتاب کی طرح عیاں ہوئے۔ 21جولائی 1947ءکو انڈیا میں احمدیوں کے گھر پیدا ہوئے اور پھر چھوٹی سی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ربوہ ( جناب نگر) میں آکر آباد ہوگئے وہیں پر اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور میٹرک کیا اس کے بعد کچھ عرصہ کے لئے ملتان میں بھی رہے اور پھر 1964ءکو کراچی آئے۔ےہیں پر اپنی باقی تعلیم مکمل کی اور بی- اے کیا اور پاکستان نیوی کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ ابو جان (مرحوم) 1980ءتک کراچی میں رہے اسی دوران اُنہوں نے گجرات کے ایک قصبہ کنجاہ سے ایک نیک خاتون سے شادی کی جو اﷲ کے فضل سے تاحیات ہیں اس لحاظ سے ابو جان بہت خوش قسمت رہے کہ اُنہیں ایک بہت سادہ، وفاشعار، نیک سیرت اور معاملہ فہم بیوی ملیں جس نے واقعتا ابوجان کی زندگی کو بہت خوشگوار اور گھر کو جنت کا نمونہ بنادیا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں ابوجان کے شانہ بشانہ شامل رہیں اور اُنہیں اپنی روایات سے ہر ممکنہ طور پر وابستہ رکھا۔ اﷲتعالیٰ ان کو ابوجان (مرحوم) کی جدائی میں صبر مسلم عطا فرمائے اور اپنے بچوں کے سر پر ان کی ممتا کی ٹھنڈی چھاوں ہمیشہ برقرار رکھے ( آمین)۔

اس کے بعد شیخ صاحب جرمنی آگئے اور بعذازاں اپنے پورے خاندان کو ےہیں بلوالیا ۔ اپنے پسمندگان میں 5بیٹیاں اور ایک نہایت سلیقہ شعار اور تابعدار بیٹا شیخ سہیل احمد چھوڑ گئے۔ ان کی شخصیت کا خاص پہلو یا ان کی ذات کا سب سے بڑا سرماےہ جس پر نہ صرف خاندان والوں بلکہ ان کے تمام جاننے والوں کو بھی ہے وہ ان کاقادیانیوں کے ساتھ عملی اور قلمی دعوت ہے اپنی تمام تر جسمانی بیماریوں اور تکالیف کے ساتھ جس طریقہ سے اُنہوں نے اپنی آخری سانس تک اس دعوت کو جاری رکھا اور مرزا غلام قادیانی کی جھوٹی نبوت کے دعووں کو بے نقاب کیا وہ بلاشبہ رب ذوالجلال کا ان کی ذات پر بہت بڑا احسان اور انعام ہے۔

وہ ہمیشہ کہتے کہ بیٹا اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر بہت بڑا کرم کیا، مجھے اندھیروں سے دور کیا اور صراط مستقیم پر آنے کی ہمت دی اس لئے ےہ اب میری ذمہ داری ہے کہ اپنے پروردگار کی اس نعمت کا شکر ادا کروں اور اپنی طرف سے ہر ممکن سعی کروں کہ جو لوگ اب بھی شرک کے ان اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ان کو صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کروں اور مرزا غلام قادیانی کے جھوٹے نبوت کے دعوے کو جھوٹا ثابت کروں اور ےہی میری رب سے دُعا ہے اور التجا ہے کہ مجھے وہ اتنی ہمت دے اور مہلت دے اور پروردگار نے ان کی اس دُعا کو قبول فرمایا اور ابو جان نہ صرف قلمی طور پر ان کو چیلنج کیا بلکہ پروردگار نے ان کی وساطت سے کئی بھٹکے ہووں کو سیدھا راستہ بھی دکھایا ( سبحان اﷲ) ابو جان خود فرماتے ہیں کہ باوجود ربوہ کے ماحول میں پڑھنے کے جہاں پر مرزا خاندان کا جادو سر پر چڑھ کر بولتا ہے اور ان پر اعتراضات اول تو اُٹھانے کی کوشش نہیں کرتا اگر کوئی جراءت کر کے کچھ کہہ بھی دے تو تاویلات ایسی کہ منہ بند ہی کرنا پڑتاہے اور لوگ کھل کر بات نہیں کرپاتے جہاں پر بچوں کے دماغ میں اسکول سے ہی ےہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ تم لوگ بہتر ہو دوسروں سے افضل ہو اور مہدی…. کے ماننے والے ہو اور ان کو تاعمر اندھیروں میں رکھا جاتا ہے ان حالات میں اپنے پروردگار پاک نے مجھ ناچیز پر اتنا بڑا احسان کیا اور مجھے اسلام کی ابدی اور سچی روشنی عطا فرمائی۔

ابو جان (مرحوم) نے اسلام کی طرف آنے کا واقعہ بتاتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے قادیانیوں کی طرح عمر کے بڑے حصے تک میں اس گرہ اور اس کے خرافات کی اندھا دھند تقلید کرتا رہا لیکن جب میں نے جرمنی تنظیم کے اعلیٰ عہدوں پر کام کرنا شروع کیا اور خلیفہ صاحب کی زندگی اور اس کے کارناموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو مجھ بہت سی حقیقتیں آشکار ہونے لگیں میں نے خلیفہ کی ذات کے اندر قول و فعل میں بہت بڑا تضاد دیکھا جس کی وجہ سے میرے دل نے مجھے مزید تحقیق و جستجو میں ڈال دیا۔ اس عرصے میں میں نے مرزا غلام قادیانی کی تمام تحریروں کا مطالعہ کیا اور تنظیم کے اصلی روپ کو بہت قریب سے دیکھا مرزا غلام قادیانی کی تحریروں میں جب میں نے اتنا بڑا تضاد دیکھا تو فوراً میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ قادیانیت ایک گمراہ کن تحریک ہے اور مرزا غلام قادیانی ایک کاذب ہے اور چھوٹو نبوت کا دعویدار ہے کیونکہ ایک نبی کی تحریر ایسی ہو نہیں سکتی ایک نبی کا کردار ایسا ہو نہیں سکتا اور آسمانی الفاظ ایسے ہو نہیں سکتے۔

حالانکہ اپنے پیدائشی مذہب سے علیحدہ ہونا بہت ہی کھٹن کام ہے لیکن اس کے باوجود کیونکہ سچائی ابوجان مرحوم کے اندر کہیں نہ کہیں موجود تھی جسے صرف بھڑکانے کی ضرورت تھی اور رب کریم نے ان پر اپنا کرم کرنا تھا اس لئے وہ ایک خوش نصیب انسان ہے۔

ابو جان نے مجھے مزید بتایا کہ اگر چہ ان کے دل نے اسلام کی سچائی کو پہلے سے ہی قبول کرلیا تھا لیکن مزید تحقیق وجستجو اور مرزا غلام قادیانی کی اصل تحریروں کی دسترس اور اس کے مطالعہ کی وجہ سے وہ قادیانیوں کے لبادہ اوڑھے رہے اور بالا آخر 22اگست 2003ءکو اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ اپنے اعلان سے قبل اُنہوں نے ےہ بات اپنے بیوی وار بچوں کے سامنے رکھی اپنی تحقیق کی ایک ایک چیز ان کے سامنے رکھی ےہاں پر الحمداﷲ رب کریم نے ان کو مایوس نہیں کیا کیونکہ ان کے بچے جانتے تھے کہ ان کا باپ ایک سچا اور کھرا انسان ہے اور وہ اپنے بچوں کی برائی کبھی بھی نہیں چاہے گا اس لئے اُنہوں بلاتامل اپنے باپ کی بات پر لبیک کہا اور ان کے ساتھ اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے۔ ےہ حقیقت ہے کہ اسلام کی اور ایمان کی دولت صرف ان لوگوں کی ملتی ہے اول جن پر خدائے بزرگ برتر اپنی مہربانی فرمانے کا ارادہ فرماتے ہیں اور دوسرا جن کے دل سچے ہوں اور وہ روشن ضمیر ہوں۔میں ابو جان کی دوسری خوبیوں میں جن چیز سے بہت زیادہ متاثر ہوا وہ ان کی جوانمردی ان کی ہمت تھی۔

ان کے سب جاننے والے لوگوں کو علم ہوگا کہ اُنہوں نے اپنی زندگی کے آخری چند سال بہت بڑی جسمانی تکالیف کے ساتھ گزارے ۔ میں نے خود اپنی ان آنکھوں سے ان تمام تکالیف اور مصائب کو دیکھا ہے شروع شروع میں میں ہمیشہ حیران ہوتا تھا کہ باوجود اتنی تکالیف کے میں نے اس شخص کے منہ سے کبھی کوئی شکوہ شکایت نہیں سنی …….. مجھ پر ان کی ہمت اور حوصلے کی حقیقت آشکار ہوئی۔ وہ کبھی بھی کسی کو اپنی تکالیف نہیں بتاتے تھے اور اپنی باتوں سے کبھی بھی احساس تک ہیں ہوتنے دیتے تھے کہ وہ کس قدر تکلیف میں ہے۔

اپنی وفات سے کچھ ماہ قبل جب وہ ایک بار ایمرجنسی میں ہسپتال داخل ہوئے تو ان کے ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ شیخ صاحب کچھ دن کے مہمان ہیں جس کی وجہ سے سب گھر والے پریشان ہوئے اور میں بھی اپنے بچوں کے ہمرہ لندن سے جرمنی ان کو دیکھنے کے لئے چلا گیا جب میں نے ان سے ملاقات کی اور بات چیت کی تو یقین کریں کہ مجھے کسی طریقے سے بھی ےہ محسوس نہ ہوا کہ وہ اس قدر بیمار ہیں ان کا وہی پرتکلف انداز گفتگو اور ان کی ہمت جس کی وجہ سے دیکھنے والے ہمیشہ دھوکا کھا جاتے تھے۔

ابو جان اتنی تکالیف کے باوجودحضرت عبدالرحمن باوا صاحب مدظلہ اور ان کے فرزند حضرت مولانا سہیل باوا صاحب کے بلانے پر کئی مرتبہ گاڑی پر بھی لندن آئے مجھے ہمیشہ ان کی ہمت کی داد دینا پڑتی کئی بات ایکسیڈنٹ ہوئے اور گھر والوں نے بھی اجازت نہ دی مگر پھر بھی اپنے دین کے لئے …. کی خاطر اور بعض دفعہ ہماری محبت میں کسی چیز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہمیشہ تشریف لے آتے۔

مجھے ہمیشہ کہتے تھے کہ اﷲتعالیٰ نے ان کو اپنے لاکھوں کروڑوں بندوں سے بہتر رکھا ہوا وہ کیوں نہ ان کا شکر ادا کریں۔ میں جب کبھی مشکل کا شکار ہوتا یا کوئی اہل خانہ کا دوسرا فرد تو ہمیشہ ان کی ذات ہماری ڈھارس بندھاتی اور ہمیں حوصلہ و ہمت دیتے یقین کریں وہ اس طریقے سے ےہ کام کرتے کہ آپ کی آدھی سی زیادہ مشکل یا تکلیف ان سے بات کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ۔ مجھے آج ان کا پنجابی کا وہ جملہ یاد آرہا ہے جو اُنہوں نے میری ایک دفعہ بہت بڑی پریشانی کے وقت کہا کہ ……………. ۔

جب میں بارات لے کر ان کے گھر جرمنی جانے والا تھا تو کسی بدنیت کی شکایت پر جرمن ایمبیسی نے مجھے ویزہ دینے سے انکار کردیا ےہ میرے لئے اور ان کے اہل خانہ کے لئے بہت بڑی تکلیف وہ بات تھی مگر وہ واحد شخص تھے ذرا کبھی نہ گھبرائے اور جرمنی میں عدالتوں میں اور انتظامےہ کو اس بات پرقائل کر کے چھوڑا کہ ےہ ہمارے خلاف جھوٹی سازش تھی کیونکہ وہ سچ کی خاطر ہر جگہ پر ڈٹ جاتے تھے وہ کہتے تھے کہ بیٹا علی ہمارے دل میں کوئی چور نہیں ہے ہم سچے ہیں اس لئے ہمیں کسی بات کا ڈر نہیں ہونا چاہئے انشاءاﷲ جیت ہماری ہو گی اور وہی ہوا جس کا اُنہیں یقین تھا۔ ےہ ایک چھوٹی سی مثال تھی لیکن ان کی زند گی اس یتیم کی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے شادی کے بعد ہم میاں بیوی اور بعد میں بچوں کے ساتھ جب بھی ان کو ملنے جاتے چاہے صبح کی فلائٹ ہوتی یا شام ان کی طبیعت کیسی ہی کیوں نہ ہو ہمیشہ ہمیں لینے ائیر پورٹ پر پہنچ جاتے اگر ہم کہہ بھی دیتے کہ ابو جان آپ کی طبیعت اتنی خراب ہے آپ کیوں آئے ہیں تو کہتے بیٹا مجھے اپنی تکلیفوں سے زیادہ پیار اپنے بچوں اور ان کی تکلیفوں سے ہے۔

ابو جان (مرحوم) کی طبیعت میں ہمیشہ صاف گوئی سے کام لینے اور انصاف پسندی کی عادت بدرجہ اتم موجود تھی ہمیشہ صاف ، سیدھی اور بالکل نڈر ہو کر بات کرنے والے انسان تھے چاہے سامنے والا کوئی بھی ہو وہ ذرا بھی نہ گھبراتے، چاہے وہ کسی کو بری لگتی یا اچھی چاہے وہ گھریلو محفل ہوتی یا دوست احباب کی ہمیشہ صاف گوئی سے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے۔

کئی دفعہ گھر کے معاملات میں اور کئی دفعہ باہر دوست احباب اور دینی محفلوں میں میں نے ان کی اس عادت کو دیکھا جب میں ان سے کہتا کہ ابو جان اس طرح کوئی بھی ناراض ہوسکتا ہے تو فوراً کہتے بیٹا سچ سچ ہوتا ہے اور انسان کو ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا چاہئے کہ اسی میں آخر میں سب کا فائدہ ہے۔ مجھے ہمیشہ کہتے کہ بیٹے اچھا باپ وہ ہوتا ہے جو اپنے بچوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرے نہ کہ اس پر پردہ ڈالے اور اگر اﷲتعالیٰ نے مجھے کسی معاملہ میں منصف بنادیا ہے تو ےہ میرا فرض ہے کہ ہر ممکن کوشش کروں کہ فیصلہ عدل و انصاف کے ساتھ کرسکوں۔

چاہے وہ ان کے گھریلو معاملات ہوں یا باہر کے میرے خیال کے مطابق وہ ایک معاملہ فہم انسان تھے اور ان کی کوشش ہوتی کہ معاملہ احسن طریقے سے فوراً حل ہوجائے اور بات آگے نہ بڑھے اور جو بات جس کے متعلق ہوتی یا جس کو جو کچھ بھی کہنا ہوتا ہمیشہ اس کے منہ پر بات کو کہتے جس سے بات کا ادھر اُدھر ہوجانے کا خدشہ ختم ہوجاتا تھا اور کوئی بھی شخص ان کے بارے غلط بات یا غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا تھا اسی وجہ سے گھر والے ہمیشہ ان کے فیصلے کو بڑے آرام وسکون سے تسلیم کرلیتے تھے۔

ابو جان اپنی علمی قابلیت طرز بیاں خود اعتمادی اور مزاحےہ حس رکھنے کی وجہ ہر قسم کی محفل میں چھا جانے والی شخصیت تھے۔ اکثر اوقات جب قادیانیوں کو پتہ چلتا کہ شیخ صاحب بھی تشریف لانے والے ہیں تو وہ فوراً بھاگ جاتے تھے ، میں خود اس چیز کا چشم دید گواہ ہوں۔ ایک دفعہ لند ن مرکز ختم نبوت اکیڈمی کے مرکزی امیر حضرت مولانا سہیل باوا جی نے Romforderd لندن میں قادیانیوں کے ساتھ بحث و مباحثے کے ایک چیلنج کو قبول کیا اتفاق سے ابو جان ہمارے پاس ہی آئے ہوئے تھے لیکن اُنہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔ جب وہاں پر پہنچے تو ان لوگوں کو کسی نہ کسی طرح پتہ چل گیا اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ابو جان کی بچوں سے محبت اور انسیت بے مثال تھی اپنے خاندان کے بچوں کے وہ Big Papa اور Hero تھے اس کی وجہ ےہ تھی کہ وہ ہمیشہ بچوں کی بات پوری توجہ سے سنتے، ان کے ساتھ گفتگو کرتے اور ان کے ساتھ گھل مل جاتے تھے۔ ہمارے گھر میں جب بھی وہ جرمنی سے فون کرتے تو ہمیشہ پہلے بچوں کا پوچھتے ان سے بات بھی کرتے اور کبھی کبھی ان کی بات بچوں سے شروع ہو کر بچوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ختم ہوجاتی میرے بیٹے آبان علی کے بارے میں کہتے کہ ےہ آدھا علی کا ہے آدھا ماں کا اور پورے کا پورا میرا ہے ہمیشہ کہتے کہ اگر بچوں کو پیار اور وقت دوگے تو وہ تمہارے بنیں گے۔

ابو جان ایک ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہنس مکھ، زندہ دل اور مسکراہٹیں بکھیرنے والے شخص تھے ےہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کے ساتھ ان کی محفل ہوتی اور وہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹیں نہ بکھیرتے۔ اُنہیں دوسروں کو خوش کرنے میں مزہ آتا تھا۔ ایک دفعہ میں ابوجان کے ساتھ ٹرین میں ایک مذہبی محفل میں شرکت کے لئے لندن سٹی میں جارہا تھا ہمارے ساتھ حضرت عبدالرحمن باوا صاحب مدظلہ اور دو تین بزرگ ہستیاں بھی ساتھ تھیں مجھے اچھی طرح یاد ہے کے ابوجان نے کس طرح اپنی باتوں سے سب کو لطف اندوز کیا او ر حضرت عبدالرحمن باوا صاحب سمیت دوسرے بزرگ بھی ان کی باتوں پر مسکرارہے تھے اور ان سب کے چہرے قابل دید تھے۔

اکثر اوقات جب وہ ہسپتال داخل ہوتے تو ڈاکٹر اور دوسرا عملہ ان کی طبیعت اور حالت دیکھ کر پریشان ہوجاتے مگر ابوجان اس حالت میں بھی ان سے ایسی بات کرتے کہ وہ سب مسکرانے پر مجبور ہوجاتے اور پھر مجھے ٹیلیفون پر بناتے کہ اُنہوں نے اپنے ڈاکٹرسے بات کی تو وہ ہنسنے کے ساتھ ساتھ حیران بھی ہوا کہ اس حالت میں بھی مجھے مذاق سوجھتا ہے

ادبی اعتبار سے ابوجان کی شخصیت ےہاں کے مذہبی حلقہ احباب میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ میرے نزدیک ان کی تحریریں اپنے طرز بیاں کے اعتبار سے اور اپنے موضع بیان کے اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ کیونکہ اُنہوں نے جو مرزا صاحب کو کھلے خطوط کا سلسلہ شروع کیا اور جو مرزا غلام احمد کا عالم برزخ میں انٹرویو کیا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک نیا طرز بیان ہے جو اُنہوں نے شروع کیا اور اُنہوں نے جو کچھ لکھا وہ اپنے رب کی رضا کے لئے ختم نبوت کی سچائی اور منکران ختم نبوت کو غلط اور جھوٹا ثابت کرنے کے لئے لکھا۔

خاص طور پر ان کے آخری مضامین جو اُنہوں نے آخری پانچ چھ ماہ میں لکھے وہ اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ وہ بے حد بیمار تھے اور ان کی محبت دو قدم چلنے کی بھی اجازت نہ دے رہی تھی اکسیجن کو ساتھ رکھنا پڑتا تھا کیونکہ بار بار سانس اٹک جاتا تھا مگر ان حالات میں بھی اُنہوں نے لکھنا ختم نہیں کیا۔ ہسپتال کے اندر ہمیشہ اپنا لیپ ٹاپساتھ رکھتے

اور ڈاکٹر اور گھر والوں کے منع کرنے کے باوجود لکھنے سے باز نہ آتے آخری دفعہ جب میں ان سے ملنے ہسپتال پہنچا تو کہنے لگے کہ ےہ سب لوگ چاہتے ہیں کہ میں لکھنا بند کردوں LapTop گھر بھیج دوں مگر میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب تک میری آخری سانس نکل نہیں جاتی تب تک میں لکھتا رہوں گا۔

ان کی تحریر بڑی سادہ ، خوشگوار اور آسان ہوتی تھی کیونکہ ان کے خیال کے مطابق وہ چاہتے تھے کہ جو کچھ وہ لکھیں تمام لوگ بھی اس کو پڑھ سکیں اور سمجھ سکیں دوسرا ےہ کہ میں ایسی چیز نہیں لکھنا چاہتا یا ایسی زبان استعمال نہیں کرنا چاہتا جس سے ان کے جذبات مجروح ہوں اور مضمون کو پڑھنے کی بجائے دور پھینک دیں۔ وہ ہمیشہ شائستہ ، مہذب لہجہ اختیار کرتے تا کہ قادیانی آرام سے انکی پوری تحریر پڑھ سکیں اور پھر اس پر غور و فکر کرسکیں۔

اس سلسلہ میں اُنہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قادیانیت ایک ایسا جال ہے جسے صرف اور صرف اخلاق اور حسن سلوک سے توڑا جاسکتا ہے اور ےہ ضروری ہے کہ ایک عام قادیانی جسے حقائق سے بہت دور رکھا جاتا ہے اس کو پیار و محبت کی زبان سے سمجھایا جائے تو وہ بہت جلد اس کو سمجھ جائے گا۔

بنیادی طور پر ابو جان مرحوم مرزا غلام احمد اور دوسرے خلیفوں کی تحریروں کو ہی لے کر …. کرتے تھے وہ قرآن و سنت و حدیث کی روشنی میں اس کا موازنہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور ےہ بتانے کی کوشش کرتے کہ مرزا اور اس کے جانشینوں کی تحریروں اور قرآن پاک اور حدیث سے کتنی متضاد رکھتی ہیں مجھے ہمیشہ کہتے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتا میں تو صرف ان کی اپنی تحریروں کو ہی لے کر …. کرتا ہوں۔ ابو جان مرحوم کے ادبی سفر میں جن لوگوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا اُن کا ذکر نہ کرنا ان کے ساتھ سخت زیادتی ہوگی۔

حضرت عبدالرحمن باوا صاحب او ر مولانا سہیل باوا صاحب اُنہوں نے شیخ صاحب مرحوم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور شیخ صاحب کے اندر والی کیفیات کو باہر نکالنے میں مدد دی۔ اُنہوں نے شیخ صاحب کو ہر موقع پر بہت نادر کتب ارسال کیں جن سے ابو جان مرحوم اپنی ادبی پیاس بجھاتے اور اپنے علم میں اضافہ کرتے۔

ابو جان مرحوم کے خطوط کو چھپوایا ان کو کتابوں کی زینت بنوایا اور ابو جان مرحوم کے کام کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا۔ ابو جان نے خود ان سے فرمایا کہ بیٹا یورپ کے اندر دونوں باپ بیٹا سب سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں حضرت عبدالرحمن باوا صاحب او ر مولانا سہیل باوا صاحب کو اپنی طرف سے اور تمام اہل خانہ کی طرف سے ان کی خدمات کا تہہ دل سے شکرےہ ادا کرتا ہوں۔

ابو جان کو اپنی کتابوں سے بہت پیار تھا اپنی ذاتی لائبریری کے اندر ماشاءاﷲ 9ہزار سے زیادہ کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے جو مختلف زبانوں میں اور مختلف موضاعات پر مشتمل ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ کتب قادیانیت اور احادیث پر مشتمل ہیں ، جب میں ان کی لائبریری کے بارے ان سے بات کرتا تو فرماتے کہ بیٹا میرے پاس چند ایسی کتب بھی موجود ہیں جواب بہت نایاب ہیں۔

میں جب بھی پاکستان سے واپس آرہا ہوتا یا لندن سے جرمنی جارہا ہوتا تو میں ان سے ضرور پوچھتا کہ ابو جان آپ کو کوئی چیز چاہیے تو بتائیں وہ ہمیشہ صرف اور صرف کتابوں کا تحفہ ہی لینا پسند فرماتے اور کہتے علی اگر لاسکتے ہو تو مجھے فلاں کتاب لادو اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہئے یوں میں ان کے لئے پاکستان سے ےہاں سے ان کے لئے کتابیں لے جاتا تو وہ بہت خوش ہوتے۔

آج وہ ہم میں نہیں ہیں اس مضمون کو لکھتے ہوئے میرا دل رو رہا ہے اور دل کرتا ہے اُنہیں کہوں کہ ابو جان آج آپ کی بڑی یاد آرہی ہے مگر ہم سب اپنے پروردگار کے بنائے ہوئے اس قانون کے تابع ہیں ” ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے“۔ آج ان کا وقت بھی پورا ہوگیا اور وہ ہم سے رخصت ہوگئے ۔ میں اپنے پروردگار سے ان کے بلند درجات کے لئے دُعا گوہوں اﷲتعالیٰ ان کی بال بال کی مغفرت فرمائے اور اُنہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے (آمین) اور ہم وارثاگان کو صبر عظیم اور دین پر استقامت نصیب فرمائے آمین۔



ذوالفقار علی

(لندن)

اس مضمون کے لئے ہم الحق المبین کے شکر گزار ہیں

Monday, June 15, 2009

مرزا صاحب اور حدیث - حصہ دوم

تحریر و تحقیق : شیخ راحیل احمد مرحوم

اور دوسری جگہ بیان کرتے ہیں کہ’’یاد رکھو کہ جو شخص احادیث کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے وہ ہر گز ہر گز مومن نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے کہ جو بغیر مدد احادیث ادھورا رہ جاتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ مجھے احادیث کی ضرورت نہیں وہ ہر گز مومن نہیں ہو سکتا۔ اسے ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑیگا‘‘۔ ملفوظات/ ج ۱۰ / ص ۲۶۵۔
اس موقف کے بعد مرزا صاحب اور انکی جماعت اب ان حدیثوں کی تاویلیں اور جرح کیوں کرتی ہے؟کیا اس لئے کہ اسکے بغیر خود ساختہ نبوت کا کوئی راستہ نظر نہ آیا ؟اب مرزا صاحب اپنے مقاصد کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اوپر دئے گئے دونوں حوالوں کو ذہن میں رکھیں اور پھر دیکھیں کہ کتنی فنکاری سے احادیث کو قرآن کریم کا مقابل قرار دیکر احادیث کے وجود کے بارے میں سوال کھڑے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
٭ مرزا صاحب نے ایک اور آسان نسخہ ڈھونڈا کہ جو انکے دعوے ہیں یعنی خروج دجال اور نزول عیسیٰ کی علامات و آثار ، نہایت تفصیل کے ساتھ احادیث میں موجود ہیں اور انکے پاس ان سے بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ، یا پھر مسلمانوں کی نظر میں منکر حدیث بنیں ، اس سے بچنے کے لئے انکے ذہن نے اسکا پہلا حل تو یہ ڈھونڈا کہ قرآن اور احادیث کے تعلق کو فنکاری کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل لا کر احادیث کی ضرورت اور عدم ضرورت کے سوالات پیدا کئے جائیں، میری اس بات کی تصدیق مرزا صاحب کا یہ ارشاد کر رہا ہے۔ ’’کیاآ نحضرت ؐ کی ان لوگوں کو وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا؟ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن کے بارے میں پوچھے جائیں گے نہ کہ زید اور بکر کے جمع کردہ سرمایہ کے بارے میں یہ سوال ہم سے نہ ہو گا کہ تم صحاح سِتہ وغیرہ پر ایمان کیوں نہ لائے۔ پوچھا تو یہ جائیگا کہ قرآن پر ایمان کیوں نہ لائے۔
بحث کے قواعد ہمیشہ یاد رکھو۔ اول قواعد مرتب ہوں ، پھر سوال مرتب ہوں، کتاب اللہ کو مقدم رکھا جائے۔ احادیث ان کے (کن کے ؟۔ناقل)اقرار کے نموجب خود ظنیات ہیں۔ یعنی صدق اور کذب کا ان میں احتمال ہے۔
اسکے یہ معنی ہیں کہ ممکن ہے سچ ہو ،اور ممکن ہے کہ جھوٹ ہو۔ لیکن قرآن شریف ایسے احتمالات سے پاک ہے۔آنحضرت ؐ کی زندگی قرآن شریف تک ہی ہے۔ پھر آپ فوت ہو گئے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مدار ان پر ہوتا تو آنحضرت ؐ فرما جاتے کہ میں نے حدیث جمع نہیں کیں۔ فلاں فلاں آوے گا تو جمع کریگا تم اُن کو ماننا‘‘۔ ملفوظات /ج ۴ / ص ۱۵۱۔ چونکہ مرزا صاحب کو یقین تھا کہ یہ عذر کافی نہیں ہو گا دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ احادیث کے ایک بہت بڑے حصہ کے متعلق شکوک ذہنوں میں ڈالنا شروع کر رہے ہیں :

مرزا صاحب اور حدیث ۔ حصہ اول

تحریر و تحقیق : شیخ راحیل احمد مرحوم

مذہب اسلام میں احکامات اور انکی تشریح کے لئے قرآن کریم کے بعد کتب احادیث کی اہمیت سے مسلمان تو کیا کافروں کو بھی انکار نہیں۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ختم نبوت پر جو ڈاکہ ڈالا، عقائد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا اور اپنے آپ کو نبی قرار دے لیا،
اسکے جواز ڈھونڈنے میں مرزا صاحب نے نہ صرف پہلی مذہبی کتب پر بلکہ قرآن کریم پربھی دست درازیاں کیں، تحریف کی، جھوٹ باندھے اور من مانے تراجم کئے، اسی طرح اپنی خانہ ساز نبوت کو بحق ثابت کرنے کے لئے مرزا صاحب نے انتہائی بے شرمی کے ساتھ احادیث پر ، اسکے بیان کرنے والوں پر بھی اپنی چیرہ دستیوں کا ہاتھ دراز کیا، اور جس حدیث کو انہوں نے چاہا رد کیا چاہے وہ ثقہ ترین احادیث میں سے ہو ، اور جس حدیث کو چاہا ، بطور دلیل کے پیش کر دیا چاہے وہ کتنی ضعیف ہی کیوں نہ ہو اور اس حدیث کے ضعیف ہونے کے کتنے ہی زبردست شواہد ہوں، جیسا کہ فرماتے ہیں۔
٭ ’’تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں، جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں‘‘۔ اعجاز احمدی،رخ ص۱۴۰/ج۱۹۔
یہ تو اقرار کر رہے ہیں لیکن بات صرف یہاں تک ہی نہیں رہتی بلکہ کئی احادیث کے من مانے ترجمے کئے اور جو باتیں احادیث میں نہیں تھیں وہ بھی احادیث سے منسوب کر دیں، اور کئی احادیث کے مطالب کو اپنی من مانی تاویلات کے بنے ہوئے جال میں دھکیل دیا۔ بعض حدیثوں کو بیان کرتے ہوئے دانستہ بہت سی باتوں کو چھوڑ گئے اور کچھ کو اس طرح بیان کیا کہ ایک دو سطرحدیث کی ساتھ میں اپنا تبصرہ اس طرح گڈ مڈ کیا کہ اس طرح ان کو اپنے من معنی پہنادئے اور ان کوپیش کر دیا اور باقی کی حدیث کو گول کر گئے ۔غرضیکہ جو بھی ایک جھوٹا مدعی نبوت قران ، حدیث اور سنت کے ساتھ کر سکتا ہے نہ صرف مرزا صاحب نے بے دریغ کیا بلکہ آج تک کے آئمہ تلبیس میں وہ اس باب میں بھی ان تما م جھوٹے نبیوں کے سر خیل ثابت ہوئے بلکہ خاتم الآئمہ تلبیس ہوئے۔
مرزا صاحب کی احادیث پر چیرہ دستیاں تو بہت ہیں مگر خاکسار صرف چند ایک مثالوں پر ہی قناعت کریگا، کیونکہ مقصد اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جب انسان اپنی ذات کو جھوٹے نبی کی ذات میں ڈھال لیتا ہے تو کہاں تک جھوٹ کی نجاست میں منہ مارتا ہے، اور جھوٹ کے طومار وں سے خشک پتوں کے ڈھیر وں کی طرح کئی کئی ڈھیر لگا دیتا ہے، لیکن سچائی کہ ایک جھونکے سے ہی یہ ڈھیراڑنے لگتے ہیں اور جھوٹ کی لاش کو ننگا کر دیتے ہیں اسطرح حقیقت جاننے والوں کا سچائی پر یقین اور پختہ ہوتا ہے ۔لیکن اگر مرزا جی کی ہر ایک چیرہ دستی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو میرے خیال میں کئی ایک ضخیم کتابیں بھی ناکافی ہو نگی، اس لئے اس آرٹیکل کو دیگ میں سے چاول کے ایک دانے کے طور پر ہی قبول کریں۔
احادیث کے بارے میں مرزا صاحب کی مختلف آراء:۔
شروع شروع میں جب مرزا صاحب کمپنی کی مشہوری کر رہے تھے، تاکہ نبوت کے آئندہ منصوبوں کی راہ ہموار ہو جائے، کیونکہ اس وقت مرزا صاحب کو بعض نامور اہلحدیث علماء کا تعاون بھی حاصل ہونے کی امید تھی اس وقت مرزا صاحب کا اسلام کے مطابق تسلیم شدہ اصول:
٭
’’ حدیثوں کا وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑہا مخلوق ابتدا سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے؟ ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک، اور باپوں سے دادوں تک، اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہہ طور پر مشہور ہو گیا، اور اپنے اصل مبدا تک اسکے آثار اور انوار نظر آ گئے اسمیں تو ایک ذرہ گنجائش نہیں رہ سکتی، اور بغیر اسکے انسان کو کچھ نہیں بن پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اول درجے کے یقینیات میں سے یقین کرے، پھر جبکہ آئمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کےساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کااسناد ، راستگو اور متدین راویوں کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا تو پھربھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جنکو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا‘‘، شہادت القرآن،ر خ،ج۶/ ص ۳۰۴ ۔